Wo Is Andaaz Ki Mujh Se Mohabbat Chahta Hai

وہ اس انداز کی مجھ سے محبت چاہتا ہے....
 مرے ہر خواب پر اپنی حکومت چاہتا ہے...
مرے ہر لفظ میں جو بولتا ہے مجھ سے بڑھ کر...
 مرے ہر لفظ کی مجھ سے وضاحت چاہتا ہے...
بہانہ چاہئے اس کو بھی اب ترک وفا کا...
 میں خود اس سے کروں کوئی شکایت چاہتا ہے...
اسے معلوم ہے میرے پروں میں دم نہیں ہے....
 مرا صیاد اب مجھ سے بغاوت چاہتا ہے....
وہ کہتا ہے کہ میں اس کی ضرورت بن چکاہوں....
 تو گویا وہ مجھے حسب ضرورت چاہتا ہے ....
کبھی اس کے سوالوں سے مجھے لگتا ہے ایسے ....
 کہ جیسے وہ خدا ہے اور قیامت چاہتا ہے ....
اسے معلوم ہے میں نے ہمیشہ سچ لکھا ہے....
 وہ پھر بھی جھوٹ کی مجھ سے حمایت چاہتا ہے...
شاعرہ : "پروین شاکر"

Comments

Popular posts from this blog

Hum pe guzre the ranj sare,jo khud pe guzre to loog samjhy

Saath Chalny Waly Jab Saath Chor Jaaty Hai